جنات کو گھروں سے بھگانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکوئی خط لکھا تھا؟

Bismillahir Rehmaanir Raheem
Assalam Alaikum Wa Rehmath Ullahi Wa Barakatahu
جنات کو گھروں سے بھگانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکوئی خط لکھا تھا؟ 

سوال :
مولانا محمدابراہیم دہلوی صاحب نے اپنی کتاب ’’طب روحانی (ص:186)‘‘ پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خط روئے زمین کے جنات کے نام درج کیا ہے۔ آپ نے سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے یہ خط لکھوا کر سماک رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا، وہ اسے رات کو اپنے تکیہ کے نیچے رکھ کر سو گئے تو مکان سے رونے، فریاد کرنے، ہائے وائے اور میں جل گیا، مرگیا جیسی آوازیں آئیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا جنات کو گھروں سے بھگانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی خط لکھا تھا؟ اس کی حقیقت کیا ہے؟ ( ی ۔ ن میر پور )
الجواب بعون الوھاب
الحمدللہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ امابعد !
جنات اور ان جیسی دیگر اشیاء کے حوالے سے مختلف لوگوں نے اپنے اپنے کاروبار چمکا رکھے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں یہ دھندا عام ہے۔ اس سلسلے میں یہ لوگ جعلی اور وضعی روایات پر عمارت کی بنیاد رکھتے اور خود ساختہ وظائف و تعویذات کا سلسلہ عام کرتے ہیں۔ حالانکہ جنات و شیاطین کے وسواس اور حملوں سے بچنے کے لیے قرآن پاک کی تلاوت اور مسنون اذکار ہی کافی ہیں۔ اگر آدمی کو اللہ پر توکل اور بھروسا ہو اور وہ احکامات شرعیہ کی پابندی کرتے ہوئے ان مسنون وظائف کو بروئے کار لائے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مصیبت دور کر دیتا ہے۔
مذکورہ خط کی کہانی یوں بیان کی گئی ہے کہ ابو دجانہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا:
’’یا رسول اللہ! میں اپنے بستر پر سوتا ہوں تو اپنے گھر میں چکی چلنے کی آواز اور شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ سنتا ہوں۔ جب میں گھبرا کر سر اٹھاتا ہوں تو مجھے ایک تاریک سایہ نظر آتا ہے جو بلند ہو کر میرے صحن میں پھیل جاتا ہے۔ میں اسے چھوتا ہوں تو اس کی جلد خارپشت (سیہی) کی طرح معلوم ہوتی ہے اور وہ میری طرف آگ کے شعلے پھینکتا ہے۔ لگتا ہے کہ وہ مجھے بھی جلادے گا اور میرے گھر کو بھی۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمھارے گھر میں رہنے والا جن بہت برا ہے، وگرنہ رب کعبہ کی قسم! کیا تیرے جیسے شخص کو بھی تکلیف دی جاتی ہے!‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قلم دوات منگوا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ عبارت لکھوائی:
(((( بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، ھٰذَا کِتَابٌ مِّنْ مُحَمَّدٍ رَّسُوْلِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ اِلٰی مَنْ طَرَقَ الْبَابَ مِنَ الْعُمَّارِ وَالزَّوَّارِ، اَمَّا بَعْدُ: فَاِنَّ لَنَا وَلَکُمْ فِی الْحَقِّ سَعَۃً فَاِنْ تَکُ عَاشِقًا مُوْلِعًا اَوْ فَاجِرًا مُقْتَحِمًا اَوْ زَاعِمًا حَقًّا اَوْ مُبْطِلًا، ھٰذَا کِتَابُ اللّٰہِ یَنْطِقُ عَلَیْنَا وَعَلَیْکُمْ بِالْحَقِّ اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ وَرُسُلُنَا یَکْتُبُوْنَ مَا تَمْکُرُوْنَ اتْرُکُوْا صَاحِبَ کِتَابِیْ ھٰذَا وَانْطَلِقُوْا اِلٰی عَبْدَۃِ الْاَصْنَامِ وَاِلٰی مَنْ یَزْعُمُ اَنَّ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا آخَرَ، لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ، کُلُّ شَیْئٍ ھَالِکٌ اِلَّا وَجْھَہُ لَہُ الْحُکْمُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ تُغْلَبُوْنَ ((حٰمٓ )) لَا تُنْصَرُوْنَ، حٰمٓ عٓسٓقٓ تَفَرََّقَ اَعْدَائُ اللّٰہِ وَبَلَغَتْ حُجَّۃُ اللّٰہِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ))
اس کے بعد ابودجانہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’میں اسے لپیٹ کر اپنے گھر لایا اور سر کے نیچے رکھ کر رات کو سو گیا اور میں ایک چیخنے والے کی چیخ سے بیدار ہوا، کوئی کہہ رہا تھا: ’’اے ابودجانہ! لات و عزیٰ کی قسم! ان کلمات نے ہمیں جلا ڈالا، تمھیں تمھارے نبی کی قسم! نامہ مبارک یہاں سے اٹھالو، ہم تیرے گھر میں آئندہ نہیں آئیں گے۔‘‘ ایک روایت میں ہے: ’’ہم نہ تمھیں ایذا دیں گے، نہ تمھارے پڑوسیوں کو اور نہ اس جگہ والوں کو جہاں یہ خط مبارک ہوا۔‘‘ ابو دجانہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے جواب دیا: ’’مجھے میرے رسول کے اس حق کی قسم، جو اللہ نے مجھ پر واجب کیا ہے! میں اس کو یہاں سے نہیں اٹھائوں گا جب تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ نہ کرلوں۔‘‘ سیدنا ابو دجانہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’جنات کے چیخنے، رونے اور بلبلانے سے وہ رات میرے لیے بہت طویل ہوگئی۔ صبح کی نماز میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی اور جنات کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اے ابو دجانہ! تم وہ نامۂ مبارک جنات سے اٹھا لو اور اس ذات کی قسم، جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! ان جنات کو قیامت تک عذاب کی تکلیف ہوتی رہے گی۔‘‘
[لقط المرجان فی أحکام الجان للسیوطی مترجم (ص ۲۲۹ تا ۲۳۱)]

یہ روایت امام بیہقی نے دلائل النبوۃ ’’باب ما یذکر من حرز أبی دجانۃ (۷/ ۱۱۸ تا ۱۲۰)‘‘ میں، امام ابن الجوزی نے کتاب الموضوعات ’’کتاب الذکر، باب حرز أبی دجانۃ (۱۶۶۰) (۳/۴۲۶۔۴۲۸) میں اور علامہ علی بن محمد الکنانی نے ’’تنزیھۃ الشریعۃ المرفوعۃ (۲/۳۲۴، ۳۲۵)‘‘ میں ذکر کی ہے ۔ یہ روایت دو طرق سے مروی ہے۔ ابن جوزی کی سند میں موسیٰ انصاری کا ذکر ہے، جس کے بارے میں خود ان کا کہنا ہے :
’’ ھٰذَا حَدِیْثٌ مَوْضُوْعٌ بِلَا شَکٍّ وَاِسْنَادُہُ مُنْقَطِعٌ وَلَیْسَ فِی الصَّحَابَۃِ مَنِ اسْمُہُ مُوْسٰٰی اَصْلًا وَاَکْثَرُ رِجَالِہِ مَجَاھِیْلُ لَا یُعْرَفُوْنَ ‘‘
’’یہ روایت بلاشک و شبہ من گھڑت ہے اور اس کی سند بھی منقطع ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین میں اصلاً موسیٰ نام کا کوئی شخص نہیں، پھر روایت کے اکثر راوی مجہول و غیر معروف ہیں۔‘‘
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’ وَقَدْ رُوِیَ فِیْ حِرْزِ اَبِیْ دُجَانَۃَ حَدِیْثٌ طَوِیْلٌ وَھُوَ مَوْضُوْعٌ لَا تَحِلُّ رِوَایَتُہُ ‘‘
’’ابو دجانہ کی جنات سے بچائو کے متعلق بیان کردہ طویل روایت من گھڑت ہے، اس کی روایت درست نہیں۔‘‘
علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی ترتیب الموضوعات میں کہا ہے:
’’ فِیْ اِسْنَادِہِ مَجَاھِیْلُ وَمَا فِی الصَّحَابَۃِ مُوْسٰی ‘‘
’’اس کی سند میں کئی راوی مجہول ہیں اور موسیٰ نامی کوئی شخص صحابی نہیں۔‘‘
امام بیہقی نے اس کی دوسری سند ذکر کی ہے، جس کے متعلق امام ابن عبدالبر فرماتے ہیں:
’’ وَاِسْنَادُ حَدِیْثِہِ فِی الْحِرْزِ الْمَنْسُوْبِ اِلَیْہِ ضَعِیْفٌ ‘‘ [الاستیعاب (۱۰۵۶) (۲/۲۱۲)]
’’ابو دجانہ کی طرف منسوب حرز والی روایت کی سند ضعیف ہے۔‘‘
ابن عبدالبر رحمہ اللہ کے اس قول پر تعاقب کرتے ہوئے تنزیہہ الشریعہ کے معلق نے لکھا ہے:
’’ بَلْ رِوَایَۃُ الْبَیْھَقِیِّ مَوْضُوْعَۃٌ اَیْضًا قَطْعًا ‘‘
’’بلکہ بیہقی کی روایت بھی یقینی طور پر من گھڑت ہے۔‘‘
علامہ صنعانی حنفی لکھتے ہیں :
’’ وَالْحِرْزُ الْمَنْسُوْبُ لِاَبِیْ دُجَانَۃَ الْاَنْصَارِیِّ، وَاسْمُہُ سِمَاکُ بْنُ حَرْشَۃَ، مَوْضُوْعَۃٌ ‘‘
’’سیدنا ابو دجانہ انصاری رضی اللہ عنہ ، جن کا نام سماک بن حرشہ ہے، ان کی طرف منسوب حرز من گھڑت ہے۔‘‘ [موضوعات الصنعانی (ص ۳۹، رقم۱۳)]
مزید دیکھیں تحذیر المسلمین من الاحادیث الموضوعہ علی سید المرسلین (ص ۷۳)، تذکرۃ الموضوعات از علامہ محمد طاہر پٹنی (ص ۲۱۱، ۲۱۲)، موسوعۃ الاحادیث والآثار الضعیفہ والموضوعہ (۵/۳۶۹، ۳۷۰، رقم ۱۲۷۱۶) اور الوضع فی الحدیث (۳/۲۶)۔
اس مختصر توضیح سے معلوم ہوا کہ یہ روایت من گھڑت ہے، سو اس خط کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط قرار دینا درست نہیں۔ جنات وغیرہ کو گھروں سے نکالنے کے لیے سورۃ البقرہ وغیرہ کی تلاوت کی جائے اور مسنون ذکر و اذکار کی پابندی کی جائے، جیسے فرض نمازوں کے بعد کے اذکار، سونے اور بیدار ہونے کے اذکاراورصبح و شام کے اذکار

By lifeforislam

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s